SKU: 20438960112

سفرنامہ کے ٹو | Safar Namah K2

Sale price$180.00 Regular price$200.00
Save 10%

Pay in installments of $50.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 15 - Jul 20

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

سفرنامہ کے ٹو | Safar Namah K2: : : : 120 270 257 98

”کے-ٹو، برفانی وادیاں“
مصنف: ڈاکٹر محمد اقبال ھُما
فیڈبیک: محمد احسن
خدشہ یہ ہے کہ مَیں کِس منہ سے محترم ڈاکٹر محمد اقبال ھُما کو فیڈبیک دوں؟ سورج کو چراغ کیسے دکھاؤں؟ ایک شاگرد اپنے ایک استاد کے سبق پر اُسے کیا رائے دے سکتا ہے؟ یہ کتاب ”کے-ٹو“ جس انداز میں تحریر ہوئی ہے، اِس کے پروفیشنل اِزم کا جواب نہیں ہے۔ لہذا یہ فیڈبیک تو میں دے رہا ہوں، مگر مَن ہستم نیچ… بہرحال پھر بھی کتاب کے بارے میں کچھ تحریر کرنا اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا، اور یہی فیڈبیک کا مقصد ہے۔
جدید سفرنامہ ایک مختلف شکل اختیار کر چکا ہے۔ پہلے زمانوں میں سفرنامہ محض ایک خشک رپٹ ہوتی تھی۔ قدیم سفرناموں میں خشکی کی اہم وجوہات میں سفرنامہ نگار کی شخصیت کے نرم گوشوں کا فقدان سرِ فہرست وجہ تھی۔ اُس وقت تمام توجہ ”جو دیکھا، لکھ دیا“ پر ہوتی تھی اگرچہ یہ بھی قابلِِ قدر سرمایہ تھا۔ ابنِ بطوطہ کا سفرنامہ پڑھیں تو خشکی بلکہ صحرا روح میں اترتے محسوس ہوتے ہیں، پھر بھی ابنِ بطوطہ ہمارا وہ سرمایہ ہے جس نے ہندوستان کی وہ تاریخ لکھی جو شہنشاہوں نے خود نہیں لکھوائی، اپنی ریپوٹیشن کون خراب کرنا چاہتا ہے۔ اب سفرنامہ ایک مختلف شکل اختیار کر چکا ہے۔
جدید سفرنامہ میں ٹریول گائیڈ اور ناول کے درمیان کھینچا تانی رہتی ہے۔ ناول میں دلچسپی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، قاری کا وقت اچھا گزر جاتا ہے مگر اُس کا علم زیادہ نہیں بڑھ پاتا۔ ٹریول گائیڈ میں علم کا سمندر ہوتا ہے مگر دلچسپی کے ضمن میں قاری کا مَن پیاسا رہ جاتا ہے… چنانچہ جدید سفرنامہ میں اِن دونوں اصناف، ٹریول گائیڈ اور ناول، کو شدید تخلیقی انداز میں بیلنس کرنا پڑتا ہے۔ جو اِس میں کامیاب ہو جائے، وہی سفرناموں کا سکندر ہوتا ہے۔ آپ نے غور کیا ہو گا کہ کئی مثالیں موجود ہیں جب سفرنامہ نگار بالآخر ناول نگار بنا… تارڑ صاحب کی مثال بہترین ہے جنہوں نے بہت بعد میں خالصتاً ناولز لکھ کر اردو ادب میں بلند مقام حاصل کیا۔ تارڑ صاحب کے سفرناموں میں ٹریول گائیڈ سے کہیں زیادہ ناول کا عنصر تھا، اِسی لیے بہت کامیاب ہوئے اگرچہ بہت ساری اہم اور بورنگ معلومات تارڑ صاحب نے حذف کر دیں۔
ڈاکٹر ھُما نے بھی ٹریول گائیڈ اور ناول کی اصناف کے درمیان بہت احتیاط سے بیلنس قائم کیا ہے۔ جہاں اُن کو محسوس ہوا کہ اہم معلومات کی وجہ سے ایسے قارئین بور ہونا شروع ہو جائیں گے جن کا کتاب پڑھ کر سفر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تو اُنہوں نے بوریت کی تنبیہہ کرتے ہوئے ایسے ابواب الگ کر دیے۔ کتاب ”کے-ٹو، برفانی وادیاں“ میں اُن کا یہ اسلوب بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلے تو میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ بطور سفرنامہ نگار، ایک سفر کے دوران جو ”خوش قسمتیاں“ ایک سفرنامہ نگار کا خواب ہوتی ہیں وہ ڈاکٹر صاحب کو بخوبی میسر آئیں۔ ایسے نازک، بلکہ صنفِ نازک مواقع اِن کو نصیب ہوئے کہ یقین کرنے کو دِل ہی نہ چاہا۔ ایک حوصلہ تھا کہ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہوا ہو، مگر ڈاکٹر صاحب نے ایسے نازک مواقع کی تصاویر شامل کر کے ثابت کر دیا کہ واقعی ایسا ہوا تھا اور وہ حاسدین کی تعداد میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ بس اِسی بات سے مجھے جلن تھی کہ یہ سب ڈاکٹر صاحب یا تارڑ صاحب کے ساتھ کیوں ہوتا ہے؟ عرصہ بعد اِس کا جواب مجھے یہ ملا کہ یہ کائنات ایسے اہلِ ذوق پر اپنے اسرار زیادہ کھولتی ہے جس نے علم کو آگے بیان کرنے کی ذمہ داری اُٹھائی ہو۔ مصنفین کے حالاتِ زندگی اِسی لیے عوام سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ یہ باشعور کائنات بہت رکھ رکھاؤ والی ہے۔ یہ مظاہرِ فطرت… یہ پربت، دریا، جنگلات، ریگستان، بحر و خلا… سب محبوب کائنات کے جلوے ہیں۔ اِن جلوؤں کی محض قدر کرنے والا ہی نہیں، بلکہ اِنہیں دوسروں کے سامنے بیان کرنے والے پر یہ کائنات بہت مہربان ہے۔ صِرف صنفِ نازک ہی نہیں، پربتوں کے مخصوص پرائیویٹ مناظر بھی مصنف کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام الناس کو بعض دفعہ مصنف کے تجربات من گھڑت لگتے ہیں۔ الحمد الله یہ کائنات مجھ پر بھی بہت مہربان رہی ہے جس کی تفصیل میری دو کتابوں میں درج ہے۔
مَیں ڈاکٹر صاحب کا ایک اور وجہ سے بھی مشکور ہوں… اُنہوں نے مجھے کافی اردو سکھائی۔ جی ہاں، ڈاکٹر صاحب محض منظر کو اپنی کیفیات کی روشنی میں بیان ہی نہیں کرتے بلکہ اردو کے الفاظ کا ”اصل تلفظ“ استعمال کرتے ہیں جو فی زمانہ دیانت داری کی طرح غائب ہوتا جا رہا ہے۔ ذرا اِدھر دیکھیے:
پیمائش غلط لفظ ہے، اصل لفظ ہے ”پیمایش“… اِسی طرح ”قائم“ غلط ہے، ”قایم“ صحیح لفظ ہے۔ گنجایش، رہایش وغیرہ وہ الفاظ ہیں جن کا تلفظ غلط العام ہو چکا ہے اور ڈاکٹر ھُما اِس بدعت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ایک مشہور لفظ کو پڑھ کر میں بہت حیران ہوا۔ ہم جو ”خدوخال“ لکھتے ہیں، یہ بھی غلط ہے، اصل لفظ ہے ”خط و خال“۔ اِسی طرح کے بے شمار الفاظ ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے عرق ریز تحقیق کے ذریعے اُن کو ڈرِپیں لگا کر دوبارہ ہوش عطا کیا ہے۔
چونکہ وہ ڈاکٹر صاحب ہیں… ایم بی بی ایس ڈاکٹر… لہذا گزشتہ کتب کی طرح کتاب ”کے-ٹو“ میں بھی اتنا ہوم ورک کیا کہ کوئی غیرِ ڈاکٹر مصنف اتنی گہرائی میں نہیں جا سکتا۔ کتاب کے اختتام تک مجھے یقین ہو گیا کہ اردو میں کے-ٹو پر جتنی تحقیق ہو سکتی تھی، ڈاکٹر صاحب نے ایک بیش بہا حصہ اِس میں شامل کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے عزیز و اقربا اور احباب کے علاوہ ہماری قوم بھی اِس تحقیق سے مستفید ہو گی۔
غونڈوغورو-لا کی خطرناکیوں کے متعلق ڈاکٹر صاحب نے امت کو ڈرایا ہے جس سے کافی سارے نوجوان اُدھر جانے سے گھبرائیں گے۔ انہوں نے اصل میں یہ پیغام دیا ہے کہ وہاں تیاری سے جائیں۔ میں ڈاکٹر صاحب کی ایپروچ سے متفق ہوں کہ جو چیز خطرناک ہو، اُس کی خطرناکی کو چھپانا نہیں چاہیے۔ غونڈوغورو-لا واقعی کوہ پیمائی کے ذیل میں آتا ہے… اور کوہ پیمائی تیاری مانگتی ہے… ایویں خوامخواہ غونڈوغورو کی بلندی سے آٹھ ہزاری چوٹیوں کو دیکھنے کا خواب لے کر وہاں پہنچ جانا، پھر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ جانا درست نہیں۔ فطرت اور قسمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ ”نیچر ایکسپلوررز“ گروپ کے ڈائریکٹر نے غونڈوغورو-لا سے اترائی کے وقت کسی وجہ سے جامِ شہادت نوش کیا حالانکہ وہ منجھے ہوئے کوہ نورد تھے۔ مجھے یہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ کوہ پیمائی کوہ نوردی کے مقابلے میں حد سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہرمن بول نامی کوہ پیما نانگاپربت کو بغیر آکسیجن سر کر لیتا ہے مگر چوغولیزا جیسی معصوم چوٹی پر حادثے کا شکار ہو کر وہیں دفن ہو جاتا ہے۔ اِس میں قسمت کا بہت عمل دخل ہے مگر بندے کو اپنی طرف سے ہوم ورک مکمل رکھنا چاہیے۔
کتاب میں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں میں تھوڑی سی رہنمائی چاہوں گا:
؎ پیج نمبر 120 پر درج ہے ”رضا اور اُس کا خبطی گائیڈ“۔ میرا خیال ہے کہ رضا خود گائیڈ تھا، شاید آپ خبطی کلائینٹ کہنا چاہ رہے ہیں۔
؎ ایک جگہ آپ نے ”گلوبل وارمنگ“ کو ”کائنات کا درجہ حرارت“ لکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے ادبی روایت کے مطابق کائنات کو دنیا کے معنوں میں لیا ہے جو کہ صحیح ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا درجہ حرارت ایک جیسا رہتا ہے 270- سینٹی گریڈ۔ البتہ دنیا کا اوسطاً درجہ حرارت بدلتا رہتا ہے۔
؎ پیج 257 پر جو آخری باب ہے، اُس کے آغاز میں آپ نے جیالوجی کے مطابق زمین کی ابتدائی حالت کا بیان فرمایا ہے کہ ابتدا میں یہ زمین پانی کا گولہ تھا۔ میں نے جو ارضیات کو پڑھا ہے، اُس کے مطابق جب خلا میں بڑی بڑی چٹانیں کششِ ثقل کے باعث جمع ہو کر ہماری زمین بنیں تو چٹانوں کے شدید دباؤ کے تحت وہ چٹانیں پگھل کر لاوا بن گئیں۔ نرم چٹانوں کے باعث زمین کو گولائی عطا ہوئی۔ بعد میں زیرِزمین گیسوں اور خلا سے آتے کومٹس کے باعث پانی زمین پر پھیلنا شروع ہوا جس نے زمین کو ”کُول ڈاؤن“ کرنے میں مدد دی۔ ٹیکٹونک پلیٹس یا ارضیاتی خطے پانی پر تیر کر ایک دوسرے کے قریب نہیں آئے بلکہ زیرِسطح لاوا پر تیر کر ایک دوسرے کے قریب آئے۔ یہ لاوا پوری زمین کا 98٪ ہے۔ اگر میں آپ کا پوائنٹ نہیں سمجھا تو مجھے ضرور گائیڈ کیجیے گا۔
آخر میں، جو لوگ کنکورڈیا اور کے-ٹو بیس کیمپ جانا چاہتے ہیں، میرا مشورہ ہے کہ ایزوبل شاء اور تارڑ صاحب کے علاوہ ڈاکٹر ھُما کی یہ کتاب بھی ضرور پڑھیں، بے انتہا فائدہ ہو گا۔ ایک ڈاکٹر جو ہزاروں دواؤں کے نام، فائدے، کھانے کا صحیح اور غلط طریقہ، اور دیگر لائف سیونگ معلومات فنگر ٹپس پر رکھتے ہیں، اُنہوں نے کوہ نوردی کو کیسے بیان کیا ہو گا… خود ہی سمجھ جائیں۔
اگلی کتاب کا شدت سے انتظار رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب کو ایک تصویر میں درہ ہیسپر پر دیکھا تھا، شاید اُسی پر کتاب لکھنے کا ارادہ فرما رہے ہوں۔
دعاؤں اور علم کا طلب گار……… احسن۔
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 20438960112

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.0 ★★★★★
Based on 8 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
S
Verified Purchase
Seaner
Draper, US
★★★★★ 5
Easiest DIY ever
Style: BE-157H 1-Pack
So a Toyota dealer will want $40+ to replace this filter, but for $10 and 2mins you can easily do this yourself. There’s a great 1:30 how-to vid on the YouTube, drop the glove box (one push) open the little door, remove old filter (note the arrow) and put in the new one, close door, close glove box, enjoy better flow and fresh air. This filter is a HEPA so it’s a performance upgrade over the OEM, fit is perfect, seems sturdier than the OEM, great value if you’ve got 2mins. Highly recommend. Thanks!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 23, 2025
K
Verified Purchase
Karen Michael-Pook
Grantham, US
★★★★★ 5
Awesome Cabin Air Filter
Style: BE-151H 1-Pack
This product is not only cost efficient, it was also easy to install. The instructions in the package were helpful. I would definitely recommend using this filter for your 2017 Hyundai Sonata.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 13, 2026
M
Verified Purchase
milt loper
Whiting, US
★★★★★ 4
the "fit" is very precise
Style: BE-176H 1-Pack
Nice Fabrication, Good materials, perfect adhesive applications, "clean joints" etc. Appears to be a good UPGRADE from the stock Motorcraft product. CONs: The FIT was a "smidge TIGHT", and took very precise initial alignment and "pressure" to begin to slide into the rectangular hole. I measured the "Hole" at 7.375" wide, or (187.33 mm)... the FILTER is exactly the SAME. I would suggest maybe reducing the Width by 1 mm, to allow for an easier installation. The MOTORCRAFT uses an "open-cell" foam structure for the (2) Side pieces on their filter assembly, allowing some "compression to fit", of the Width, easing the difficulty of installation, yet still filling all voids. In summation, the "fit" is very precise. Not to be hurried or rushed, maybe a bit meticulous for the impatient or weak of heart.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 2, 2025
A
Verified Purchase
Albert Sacluti
West Palm Beach, US
★★★★★ 5
Great item and Affordable
Style: BE-157H 1-Pack
Perfectly fit for my corolla
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 4, 2026
R
Verified Purchase
Rafael B. Tejada
Houston, US
★★★★★ 5
Breathe Easy!
Style: BE-728H 1-Pack
Ladies and gentlemen, buckle up, because we're about to embark on a whirlwind adventure of cleaner air and contortionist-worthy installation feats with the Spearhead HEPA Breathe Easy Cabin Filter! First off, let's talk about installation. If you're someone who loves a good yoga session or considers themselves a Cirque du Soleil dropout, this is the filter for you. The instructions are so clear and helpful that even a goldfish could follow them. However, be prepared to twist and turn in ways you didn't know your body could. And let me tell you, I'm not in the best of shape. I discovered muscles I never knew I had and positions that would make a pretzel jealous. But don't worry, it's all worth it. Once installed, my car’s air quality shot up faster than a rocket to Mars. And although my car is old and doesn't have any fancy AI, it felt like it was saying, "Ahh, finally, some quality air!" The air was so crisp and pure, I half expected to see little cartoon birds chirping around my head. And let me emphasize this: the product quality is top-notch. It not only works great but looks good too. I purchased this gem because my wife has bad allergies, and so far, it's been a game-changer. She hasn't sneezed once, and the car doesn't smell as musty with the air conditioning on. It's like we've been transported to a fresh, alpine air paradise every time we drive. In summary, the Spearhead HEPA Breathe Easy Cabin Filter is a game-changer. It's as easy to install as putting on socks—if putting on socks required you to become a human origami. But trust me, once it's in place, your lungs will thank you, and your car will feel like it's breathing the fresh, alpine air of the Swiss Alps. Five stars, and a standing ovation from my now incredibly limber body!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 10, 2024

recommand products